20 اپریل 2023 - 01:43
امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) اور افسانۂ طلاق‏ / ایک موٹے تاریخی جھوٹ کا جائزہ

کچھ عرصہ قبل میلاد امام حسن(ع) کے موقع پر ایک پیغام میں عصمت ائمہ(ع) پر وار کرنے کے لئے منصور عباسی کے دور کا ایک شبہہ دہرایا گیا؛ جو آج کے کفار کی پالیسی کے تحت - کہ "تہمتوں کو دہراؤ اور جوابات پر کان مت دھرو؛ یہاں تک کہ تہمت کا نشانہ بننے والے کے اپنے بہی خواہ بھی اس کی حقانیت پر شک کرنا شروع کریں" - امویوں اور عباسیوں کے پیروکار آج وہی بہتان دہرا رہے ہیں اور شیعیان آل رسول(ع) کی دل آزاری کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے؛ وہی جو دشمن کے مفاد کی خاطر اتحاد مسلمین پر وار کررہے ہیں۔

  عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا –  
اشارہ: 

آج سے تقریبا ایک عشرہ قبل نواصب کی جانب سے ایک ایمیل میسج میں عصمت ائمۂ اہل بیت (علیہم السلام) کو مخدوش کرنے کے لئے ریحانۃ الرسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) حضرت امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت کے موقع پر ایسے شبہے کو ہوا دی گئی ہے جو عباسی بادشاہ منصور دوانیقی کے دور سے سرکاری منشیوں اور مستوفیوں نے وضع کیا اور ہزاروں بار اس کا جواب دیا گیا، لیکن عباسی اور اموی بادشاہتوں اور آج کے زمانے کے برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل کی پالیسی یہی رہی ہے کہ "تہمتوں اور الزامات کو دہراؤ اور ان کے جواب پر کان مت دھرو؛ حتّیٰ کہ تہمتوں کا نشانہ بننے والا شخص یا نظام حکومت یا گروہ وغیرہ کے اپنے بہی خواہ بھی اس کی حقانیت میں شک کرنا شروع کر دیں" چنانچہ اموی مذہب کے پیروکار اس موضوع میں بلکہ تمام اعتقادی موضوعات میں تیرہ صدیاں پرانے بہتان دہراتے رہتے ہیں اور پیروان اہل بیت (علیہم السلام) کی دل آزاری کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور دوسری طرف سے امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لئے اتحاد بین المسلمین پر وار کررہے ہیں۔

اس بار جو الزام اچھالا گیا ہے وہ یہ ہے کہ طلاق اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ فعل ہے لیکن امام حسن (علیہ السلام) نے نکاح اور طلاق کے حوالے سے معاذاللہ افراط کا راستہ چنا تھا۔ ہم نے تھوڑی سے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ بعض اپنے بھی اس بہتان سے متاثر ہوئے ہیں اور بعض نے تو اس کو امام (علیہ السلام) کے لئے باعث فخر گردانا ہے اور لکھا ہے کہ آپ نے 300 شادیاں کی ہیں جبکہ حقیقت میں آپ کی اولادوں کی تعداد 22 یا 31 ہیں جو اس تشہیری مہم کی دستاویزات سے مغایرت رکھتی ہے۔

بہرحال یہ ایک جعلی روایت ہے جو بعض مسلم مؤرخین نے جان کر یا انجانے میں، نقل کی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ انہوں نے اس روایت کے بارے میں تحقیق کو ضروری نہیں سمجھا ہے اور اندھادھند انداز سے اسے نقل کرتے رہے ہیں حتّیٰ کہ آج دشمنان اہل بیت (علیہم السلام) نے اسے اہل بیت (علیہم السلام) کی عدم عصمت کی دستاویز قرار دیا ہے اور یہ جاہل لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ جس فعل کی برائی کو یہ سمجھتے ہیں کیا سبط نبی (علیہ السلام) اس کو سمجھنے سے قاصر تھے؟ اور جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اپنا پھول (ریحانۃ الرسول) اور سردار جوانان جنت قرار دیا ہے یہ اس کی شخصیت پر کیچڑ اچھال کر ان کی شان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے منقولہ درجنوں احادیث شریفہ کو جھٹلا رہے ہیں۔

یہ جاہلوں کا اچھالا ہؤا مسئلہ ہے جسے اسلام دشمن قوتوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا، جس طرح کہ ان ہی جاہلوں نے اسلامی روایات میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی نسبت بھی ایسے ہی جعلی افسانے شامل کئے جن کا نتیجہ بعد میں "شیطانی آیات" (Satanic verses) جیسی توہین آمیز کتابوں کی صورت میں برآمد ہؤا؛ اسلامیان عالم کی دل آزاری ہوئی اور کفار نے بھی انہیں اسلام سے انتقام لینے کا وسیلہ قرار دیا۔ اور "اکرم البستانی" جیسوں نے بھی ان ہی روایات کا سہارا لے کر اسلام کی خوب خوب بے حرمتی کردی۔

امام حسن (علیہ السلام) اور تہمت طلاق

بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ امام حسن (علیہ السلام) پے درپے شادیاں کرتے اور طلاق دیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ اس حد تک جاری رہا کہ انہوں نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو جھوٹی نسبت دے کر لکھا کہ گویا آپ نے کوفہ کے عوام سے فرمایا: "اے اہل کوفہ! اپنے بیٹیاں میرے بیٹے حسن سے مت بیاہو کیونکہ وہ بہت زیادہ طلاق دینے والے ہیں!

قبیلۂ ہمدان کے ایک فرد نے اٹھ کر کہا: ہم ان کو بیٹیاں دیں گے چاہے انہیں رکھ لیں چاہیں انہيں طلاق دیں۔ (1)

حالانکہ قبیلۂ ہمدان جدی پشتی شیعہ قبیلہ تھا اور ہمدانیوں نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد امام حسن (علیہ السلام) کی حمایت کی اور آپ کے لشکر میں جم کر رہے اور جب امام کے لشکر میں افراتفری پھیلی اور دشمن کے گماشتوں نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا تو بنی ہمدان نے قبیلۂ ربیعہ کے ساتھ مل کر آپ کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی لی اور آپ کو مدائن لے گئے۔ (2)

ہمدانی کربلا میں بھی سپاہ حسینی میں حاضر تھے اور کربلا کے 10 شہداء "بُریر بن حُضَیر، سیف بن حارث جابری، مالک بن عبداللہ بن سریع جابری، حنظلة بن اسعد شبامی، ابوثُمامہ زیاد بن عمرو صائدی، عابس بن ابی‌شَبیب شاکری، سوار بن ابی‌حمیر جابری، سوار بن منعم بن حابس نہمی، عبدالرحمان بن عبداللہ ارحبی اور عابس شاکری کے غلام شوذب" قبیلۂ ہمدان میں سے تھے۔ (3)

بہر حال یہ ایک جھوٹا افسانہ ہے اور اس کا حقیقت سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔ کیونکہ:

1۔ یہ روایت ریحانۃ الرسول امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کی شان کے خلاف ہے۔

2۔ یہ روایت اور اس قسم کی دیگر روایات تین ہی راویوں سے نقل ہوئی ہیں اور یہ تینوں غاصب عباسی حکمرانوں کے درباری کاتب یا مؤرخ تھے۔

3۔ یہ روایات اگر درست ہوتیں تو بنو امیہ کے درباری اسے کیوں بھول گئے تھے اور عباسیوں کے دور میں کیوں سامنے آئیں؟

4۔ عباسی بادشاہ منصور دوانیقی کے دور میں جب حسنی سادات نے اس کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تو امام حسن (علیہ السلام) کے خلاف زہر افشانی اسی سفاک اور غاصب بادشاہ کے حکم پر شروع ہوئی اور نکاح و طلاق کثیر والی روایات بھی اسی سازش کے تحت وضع کی گئیں جس کا مقصد حسنی سادات کی انقلابی تحریک کو نقصان پہنچانا تھا۔

ابتداء میں ہم روایات اور تاریخی نقل کے سلسلے میں تحقیق کرتے ہیں اور اس کے بعد اس شرمناک بہتان کا جواب دیتے ہیں۔

امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کی متعدد شادیوں اور بار بار طلاق کی روایات کو تین زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

روایات کا پہلا زمرہ:

اس زمرے میں وہ روایات نقل ہوئی ہیں جن میں متعدد شادیوں سے منع کیا گیا ہے اور اس حکم کے دلائل بیان ہوئے ہیں:

1۔ أحمد بن محمد بن خالد البرقی نے محاسن نامی کتاب میں امام صادق (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ "ایک آدمی امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہؤا اور عرض کیا: میں آپ کی خدمت میں اپنی بیٹی کے بارے میں مشورہ کرنے حاضر ہؤا ہوں کیونکہ آپ کے بیٹے امام حسن اور امام حسین (علیہما السلام) اور آپ کے بھتیجے عبداللہ بن جعفر (رضی اللہ عنہ) اس کا رشتہ لے کر آئے ہیں! امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا: "المستشار مؤتمن؛ (4) (جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے؛ چنانچہ) جان لو کہ امام حسن بیویوں کو طلاق دیا کرتے ہیں چنانچہ اپنی بیٹی کا رشتہ امام حسین سے کردو کیونکہ یہ تماری بیٹی کے لئے بہتر ہے"۔ (5)

 2۔ محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی سند سے عبداللہ بن سنان سے روایت کی ہے کہ امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "ایک روز امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کوفہ کے منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا: میرے بیٹے حسن کو اپنی بیٹیوں کا رشتہ مت دیا کرو کیونکہ وہ بہت زیادہ طلاق دینے والے ہیں؛ اتنے میں قبیلہ ہمدان میں سے ایک مرد اٹھا اور کہا: ہاں! اللہ کی قسم کہ ہم اپنی بیٹیوں کی شادیاں امام حسن (علیہ السلام) سے کرائیں گے کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے فرزند ہیں؛ پس اگر وہ چاہیں تو ہماری بیٹیوں کو رکھ لیں، چاہیں تو انہیں طلاق دیں"۔ (6)

 روایات کا دوسرا زمرہ

ان روایات میں گویا امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے امام حسن (علیہ السلام) کی متعدد شادیوں اور بار بار طلاق سے شدید تشویش ظاہر فرمائی ہے:

1۔ بلاذری نے ابو صالح سے روایت کی ہے کہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا: "حسن نے اتنی شادیاں کیں اور طلاقیں دیں کہ مجھے خوف لاحق ہؤا کہ کہیں ان کا یہ عمل ہمارے لئے دشمنیاں پیدا نہ کر دے!۔ (7)

2۔ سیوطى نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے روایت کی ہے: "حسن (علیہ السلام) شادیاں کرتے رہے اور طلاق دیتے رہے یہاں تک کہ میں فکرمند ہؤا کہ کہیں قبائل اور اقوام کی جانب سے ہمیں کوئی دشمنی نہ پہنچے!۔ (8)

3۔ ابوطالب مکی لکھتا ہے: "امیرالمؤمنین (علیہ السلام) امام حسن (علیہ السلام) کی شادیوں اور طلاقوں سے پریشان رہتے تھے اور اپنی تقاریر میں فرمایا کرتے تھے: <میرے فرزند حسن اپنی بیویوں کو طلاق دیتے ہیں چنانچہ انہیں اپنی بیٹیوں کا رشتہ نہ دیا کرو!۔" (9)

4۔ علامہ مجلسی (رحمہ اللہ) محمد بن عطیہ سے نقل کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین ‏(علیہ السلام) امام حسن (علیہ السلام) کی پے درپے شادیوں اور طلاقوں سے پریشان ہؤا کرتے تھے اور مطلقہ بہوؤں کے خاندانوں سے شرم و حیا محسوس کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے: <حسن بہت زیادہ طلاقیں دیا کرتے ہیں چنانچہ انہيں رشتے نہ دیا کرو> (10)

اپنی بات: 

ان روایات کو اگر درست مان لیا جائے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ جھوٹے یا غافل و نادان راویوں کی روایات کی رو سے امام حسن (علیہ السلام) کی شادیوں اور طلاقوں کا مسئلہ جنگ جمل و صفین و نہروان کے برابر اہم مسئلہ بن چکا تھا! (معاذ اللہ) امیرالمؤمنین (علیہ السلام) اپنے بیٹے کی نافرمانیوں سے تنگ آچکے تھے اور (معاذاللہ) ان کی نافرمانی کا حال یہ تھا کہ امیر (علیہ السلام) ان سے براہ راست بات کرنے کے بجائے لوگوں سے درخواستیں کیا کرتے تھے کہ وہ آپ کے بیٹے کے رشتوں کا منفی جواب دیا کریں!!! سوال یہ ہے کہ کیا کوئی عقلمند شخص راکب دوش رسول امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) پر نافرمانی کا الزام لگا سکتا ہے؟ کیا ایسے الزامات لگا کر کسی کا ایمان بحال رہ سکتا ہے؟

روایات کا تیسرا زمرہ ‏

اس قسم کی روایات میں امام حسن (علیہ السلام) کی شادیوں کی تعداد بیان ہوئی ہے گو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور آل رسول اللہ کے گھوڑوں، خچروں، گدھوں، اونٹوں، تلواروں، دستاروں اور جوتوں تک کے نام ذکر کرنے والے ان مؤرخین نے امام مجتبیٰ (علیہ السلام) کی زوجات کے نام و نسب کا تذکرہ کیوں ضروری نہیں سمجھا ہے؟ کیا یہ ایک سوچی سمجھی سازش نہیں ہے؟

بدقسمتی سے ان راویوں میں بھی سنیوں کے علاوہ شیعہ راوی بھی موجود ہیں، جیسے:

1۔ ابراہیم بن علی عاملی کَفعَمی نے لکھا ہے کہ آپ نے 64 شادیاں کی تھیں۔ (11)

2۔ ابوالحسن (علی بن محمد بن عبداللہ) مدائنى کے مطابق آپ کی شادیوں کی تعداد ستر۔ (12) البتہ یاقوت حموی کہتے ہیں کہ مدائنی اہل سنت کے "معتبر" راوی ہیں چنانچہ وہ شیعہ علماء میں شمار نہیں ہوتے ہیں۔

حموی، یاقوت بن عبداللہ، معجم الادباء، ج4، ص1852۔

3۔ ابن حجر کے مطابق 90۔ (13)

4۔ محمد بن یعقوب الكلینى کے مطابق 50۔ (14)

5۔ ابن مطہر مقدسی بلخی کے مطابق 200۔ (15)

6۔ ابن شہر آشوب کے بحوالہ قوت القلب ابو طالب مکی، 250۔ (16)

7۔ بعض دیگر نے امام حسن (علیہ السلام) کی شادیوں کی تعداد بڑھا کر 300 بھی بتائی ہے: "وقيل ثلاثمائة"۔ (17)

8۔ بعض نے کہا ہے کہ امام (علیہ السلام) نے 400 تک شادیاں کی تھیں۔ (18)

ہمارا جواب

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ روایات اپنوں اور پرایوں نے امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بیان کی ہیں یا تحقیق کے بارے میں دوسروں سے نقل کی ہیں اور اگرچہ شیعہ راویوں اور بعض غیر شیعہ راویوں نے یقینی طور پر بدنیتی سے یہ روایات نقل نہیں کی ہیں لیکن نتیجہ وہی ہؤا ہے جو دشمنان اہل بیت (علیہم السلام) چاہتے تھے؛ اور آج اہل بیت (علیہم السلام) کے دشمن ان ہی روایات کو دستاویز بنا کر اس حریم مقدس پر یلغار کررہے ہیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے امامین حسنین (علیہما السلام) کی شان میں ارشاد فرمایا:

"الحَسَنُ وَالحُسَينُ سِبطَانِ مِنَ الأَسبَاطِ؛ حسن اور حسین اسباط میں سے دو سبط ہیں"۔ (19)

" الحَسَنُ وَالحُسَينُ سَيِّدَا الشَّبَابِ أَهلِ الجَنَّةِ؛ حسن اور حسن جوانان جنت کے دو آقا اور دو سرور و سردار ہیں"۔ (20)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سیدہ فاطمۂ زہراء (سلام اللہ علیہا) سے مخاطب ہو کر فرمایا:

"يا حَبِیبَتِی ... وَمِنَّا سِبطَا هَذِه الأُمَّةِ وَهُمَا ابنَاكَ الحَسَنُ وَالحُسَینُ وَهُمَا سَیِّدَا شَبَابِ أَهلِ الجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا وَالذِي بَعَثَنِي بِالحَقِّ خَيرٌ مِنهَا؛ میری پیاری بیٹی! اور ہم میں سے ہی ہیں اس امت کے سبطین (دو سِبط) جو آپ کے بیٹے حسن و حسین ہی ہیں جو جوانان جنت کے سردار ہیں اور اس خدا کی قسم جس نے مجھے نبوت پر مبعوث فرمایا ان کے باپ ـ [امیرالمؤمنین علی علیہ السلام] ـ ان دو سے افضل و بہتر ہیں". (21)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"أحَبُّ أهْل بَيْتِي إِلَيَّ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ؛ میں اپنے خاندان میں حسن و حسین (علیہما السلام) سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں"۔ (22)

 قال رسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ): "مَن أحَبَّهُما فَقَد أحَبَّني ومَن أبغَضَهُما فَقَد أبغَضَني «يعني الحسَنَ و الحُسَينَ»؛ جس نے امامین کریمین حسن و حسین (علیہما السلام) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ہے اور جس نے ان سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی ہے"۔ (23)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ أَحْبَبْتُهُ، وَمَنْ أَحْبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ أَحَبَّهُ اللهُ أَدْخَلَهُ جَنَّاتِ النَّعِیمِ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا أَوْ بَغَی عَلَیْهِمَا أَبْغَضْتُهُ وَمَنْ أَبْغَضْتُهُ أَبْغَضَهُ اللهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ اللهُ أَدْخَلَهُ جَهَنَّمَ وَلَهُ عَذَابٌ مُقیمٌ؛ جس نے حسن و حسین (علیہما السلام) سے محبت کی میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جسے میں دوست رکھوں خدا بھی اس کو دوست رکھتا ہے اور خدا جس کو دوست رکھے اسے نعمتوں سے مالامال جنت میں داخل کر دیتا ہے؛ اور جو ان دو سے دشمنی کرے، میں اس سے دشمنی کرتا ہوں، اور جس سے میں دشمنی کروں خدا بھی اس سے دشمنی کرتا ہے اور خدا جس سے دشمنی کرے، اسے جہنم میں ڈال دیتا ہے اور وہاں اس کے لئے دائمی عذاب ہے"۔ (24)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے امام حسن اور امام حسین (علیہما السلام) سے مخاطب ہو کر فرمایا: "أَنْتُمَا اَلْإِمَامَانِ وَلِأُمِّكُمَا اَلشَّفَاعَةُ؛ آپ دونوں امام و پیشوا ہیں اور آپ کی والدہ حضرت فاطمۂ زہراء (سلام اللہ علیہا) مرتبۂ شفاعت پر فائز ہیں"۔ (25)

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:

"أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَقَالَ: مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ وَأَبَاهُمَا وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ؛ یقینا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے حسن اور حسین (علیہما السلام) کے ہاتھ پکڑ لئے اور فرمایا: جس نے مجھ سے محبت کی، اور ان دو سے محبت کی اور ان کے والدین سے محبت کی، روز قیامت میرے ساتھ، میرے رتبے پر ہوگا"۔ (26)

 ان احادیث کا ذکر اس لئے ضروری نظر آیا کہ موضوع بہت دشوار ہے اور قابل برداشت نہیں ہے کہ کچھ لوگ اہل بیت (علیہم السلام) کو ایسی نسبتیں دیں جو وہ اپنے بچوں کو بھی دینا پسند نہیں کرتے جبکہ یہاں قطب عالم امکان امام حسن ریحانۃ الرسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر انہوں نے ایک ساتھ کئی الزامات لگائے ہیں تا کہ ان کو اپنے بعض پسندیدگان کے رتبے تک پہنچا سکیں کیونکہ اہل بیت (علیہم السلام) کے برابر ہونا تو ممکن نہیں ہے چنانچہ ان کا زعم باطل ہے کہ ان کا رتبہ ہی گھٹا کر ہی انہیں کچھ لوگوں کے برابر لایا جا سکتا ہے ہے!

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:

"نَحْنُ أَهْلَ اَلْبَيْتِ لاَ يُقَاسُ بِنَا أَحَدٌ فِينَا نَزَلَ اَلْقُرْآنُ وَ فِينَا مَعْدِنُ اَلرِّسَالَةِ؛ ہم اہل بیت وہ ہیں جن سے کسی کا قیاس و موازنہ نہیں کیا جا سکتا، اور ہم میں ہی قرآن کریم اترا ہے اور رسالت کا معدن ہم ہی میں ہے "؛ (یعنی کسی بھی شخص کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا ہے وہ اہل بیت (علیہم السلام) کی طرح ہے)۔ (27)

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا: "كُنْتُ فى‏ اَيَّامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ الِهِ كَجُزْءٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ الِهِ يَنْظُرُ اِلَىَّ النَّاسُ كَما يَنْظُرُ اِلَى الْكَواكِبِ فى‏ اُفُقِ السَّمآءِ ، ثُمَّ غَضَّ الدَّهْرُ مِنّى‏ ۔۔۔ حَتّى‏ اَرْذَلَنى‏ فَجَعَلَنى‏ نَظيراً لِإِبْنِ هِنْدٍ وَابْنِ النَّابِغَةِ؛ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے زمانے میں، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے وجود کے حصے کی مانند تھا، لوگ میری طرف اس طرح سے دیکھتے تھے کہ گویا آسمان کے افق میں ستاروں کو دیکھ رہے ہیں، پھر زمانے نے مجھے سے آنکھیں پھیر لیں ۔۔۔ زمانے نے حتی یہاں تک میرا رتبہ گھٹا دیا کہ مجھے ابن ہند (معاویہ) اور ابن نابغہ (عمرو بن العاص) کی نظیر قرار دیا! (28)

ریحانۃ الرسول امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) صاحب عصمت اور آیت تطہیر اور آیت مباہلہ کا مصداق تھے، دوسروں کو ان کے برابر لانا ممکن نہ تھا لیکن بہرحال بادشاہ لوگ کسی وقت بھی جعل حدیث کے دروازے کھولنے کی ہدایت دے سکتے تھے چنانچہ بادشاہ وقت آپ کا رتبہ گھٹانے کے لئے فکر فروش قلم فروشوں کو دھونس اور لالچ کے ذریعے اس کام پر لگایا اور جب انہیں کوئی دستاویز نہ ملی، کوئی خامی نظر نہ آئی تو شادیوں کا افسانہ گڑھ لیا!

 چنانچہ ہم نے اپنے مجروح دل کو دلاسا دینے کے لئے ان احادیث کا سہارا لیا آخر حسنین کریمین (علیہم السلام) حضرت ذوالجلال کا آ‏ئینۂ جلال و جمال ہیں؛ دین کے محافظ، اسلام کو زندہ کرنے والے اور احکام قرآن کی بقاء کی ضمانت دینے والے؛ دونوں نے دین کے تحفظ کی خاطر ابوسفیان کے بیٹے اور پوتے کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا ہے؛ اور دونوں نے دین کی حفاظت کے لئے مشیت الٰہیہ پر عمل کیا؛ وہ معصوم ہیں اور "وَمَا يَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ" (29) اہل بیت (علیہم السلام) کچھ نہیں چاہتے سوا اس کے جو اللہ نے چاہا ہے؛ دوسرے لفظوں میں وہ وہی چاہتے ہیں اور وہی کرتے اور کہتے ہیں جو اللہ نے چاہا ہو۔

اب ہم بحث کی طرف لوٹتے ہیں:

یہ روایات امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کی شان و شخصیت کے منافی ہیں

جس طرح کہ اس سے پہلے بھی اشارہ ہؤا یہ عمل امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کے مقام و شخصیت سے سازگار نہیں ہے کیونکہ امام حسن (علیہ السلام) کی شخصیت کی جو تصویر کشی قرآن اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی احادیث سے ہوئی ہے وہ ان روایات سے تناسب نہیں رکھتیں جو یہاں نقل ہوئی ہیں۔

اللہ تعالی قرآن مجید میں امام حسن (علیہ السلام) سمیت دیگر اصحاب کساء سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتا ہے: "إِنَّمٰا يُرِيدُ اَللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ اَلرِّجْسَ أَهْلَ اَلْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً؛ "اللہ کا بس یہ ارادہ ہے کہ آپ لوگوں سے ہر گناہ کو دور رکھے، اے اس گھر والو [خاندان رسالت]! اللہ تمہیں پاک رکھے جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے"۔ (30)

نیز، آیت مودت میں ارشاد فرماتا ہے: "قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى؛ اے میرے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ)! کہہ دیجئے کہ میں تم (امت مسلمہ) سے اپنی رسالت پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوا اس کے کہ میرے اہل بیت (علیہم السلام) سے محبت و مودت رکھو"۔ (31)

اور تمام سنی اور شیعہ راویوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی آل اور اہل میں امام علی، سیدہ فاطمہ، امام حسن، امام حسین اور امام حسین کی نسل سے آنے والے نو امام (علیہم السلام) شامل ہیں۔

خدائے متعال آیت مباہلہ میں ارشاد فرماتا ہے: "فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةَ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ؛ اب جو شخص اس بارے میں آپ سے کٹ حجتی کرے، اس کے بعد کہ آپ کو حقیقت حال تو معلوم ہو ہی چلی ہے [اور یہ علمی دلائل آپ کے پاس آگئے ہیں] تو کہہ دیجیے کہ آؤ! ہم بلالیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنے نفسوں کو اور تمہارے نفسوں کو؛ پھر التجا کریں اور اللہ کی لعنت قرار دیں جھوٹوں پر۔ (32)

یہ ثابت کرنے کے لئے سند و ثبوت کی ضرورت نہیں ہے کہ آیت مباہلہ بھی آیت تطہیر اور آیت مودت کی طرح اہل بیت (علیہم السلام) کی شان میں نازل ہوئی ہے اور اس آیت میں ابنائنا سے مراد امام حسن اور امام حسین (علیہ السلام) ہیں۔

ابن كثیر دمشقى لکھتا ہے: امیرالمؤمنین ‏(علیہ السلام) اپنے بیٹے امام حسن (علیہ السلام) کا بہت ہی احترام اور تعظیم کیا کرتے تھے۔ (33)

امام حسین‏ (علیہ السلام) اپنے بھائی امام حسن (علیہ السلام) کے لئے اتنے احترام و تعظیم کے قائل تھے کہ اپنے بڑے بھائی کی موجودگی میں بات تک نہیں کرتے تھے۔ (34)

طواف کی حالت میں لوگ اس طرح امام حسن اور امام حسین (علیہ السلام) کی طرح ہجوم کیا کرتے تھے کہ کبھی ان کے کچلے جانے کا خطرہ پیدا ہوجایا کرتا تھا۔ (35)

کبھی امام حسن (علیہ السلام) اپنے گھر کے دروازے پر تشریف لا کر بیٹھ جاتے تھے اور جب تک وہاں رہتے تھے آپ کی ہیبت کی وجہ سے لوگوں کا آپ کے گھر پر آنا جانا بند رہتا تھا۔ (36)

امام حسن (علیہ السلام) کے معنوی اور روحانی حالات میں منقول ہے کہ: حالت وضو میں آپ کے چہرہ منور کا رنگ دگرگوں ہوجاتا تھا اور پوچھنے والوں کے جواب میں فرمایا کرتے تھے:

"حَقٌ عَلَى كُلِّ مَنْ وَقَفَ بَينَ يَدَي رَبِّ العَرْشِ أن يَصْفَرَّ لَونُهُ وَتَرْتَعِدَ فَرائِصُهُ؛ یہ ان پر سب کے اوپر حق ہے جو رب عرش کے سامنے کھڑے ہونے جاتے ہیں کہ ان کا چہرہ پیلا پڑجائے اور وہ لرزہ بر اندام ہوجائے"۔ (37)

اب ہم پوچھتے ہیں کہ:

1۔ جو امام معصوم خالق یکتا کے حضور اس طرح لرزہ بر اندام ہو کر حاضر ہوتا ہے وہ خدا کو چار سو مرتبہ کیونکر ناراض کرسکتا ہیں اور طلاق کا عمل اتنی مرتبہ کیونکر انجام دے سکتا ہے جو حلال اعمال میں سب سے زیادہ مغضوب ہے؟

2۔ اگر بفرض محال یہ روایات درست ہوں تو یہ شادیوں اور طلاقوں سے متعلق روایات اس زمانے سے تعلق رکھتی ہیں جب امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کوفہ میں تھے اور مسلمانوں کی ظاہری خلافت بھی آپ کے اختیار میں تھی اور اگر ہم جنگ جمل (میں ناکثین [عہدشکنوں] کی بغاوت)، جنگ صفین میں قاسطین (حق سے روگردانی کرنے والے گمراہوں کی بغاوت) اور جنگ نہروان میں مارقین (یعنی دین سے خارج ہونے والوں) کی بغاوت کے ایام کو امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی مدت حکومت سے کم کردیں تو کچھ ہی مہینے باقی رہ جاتے ہیں اور اگر ان فتنوں کے مقدمات و مؤخرات سیاق و سباق کو بھی شمار کریں تو امام حسن (علیہ السلام) - جو امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے سب سے بڑے بیٹے اور انتہائی ذمہ دار شخصیت اور دوسرے اہم افراد کے لئے دوسری اور تیسری شادی کے بارے میں سوچنے کا وقت بھی میسر نہ تھا چنانچہ یہ دعویٰ عقلی لحاظ سے بھی مکمل طور پر باطل ہے۔

اگر ہم ہر شادی سے طلاق تک کی مدت کو ملحوظ رکھیں اور اس بات کو بھی مد نظر رکھیں کہ حجاز پر مسلط سعودی وہابی بادشاہوں کی روایت کے برعکس (جہاں سو تک شادیاں ایک ہی وقت کرنا جائز سمجھا جاتا ہے اور اتنی ہی یا ان سے بھی زیادہ بیویوں کو بیک وقت حرم سراؤں میں رکھا جاتا ہے اور توحید و دینداری کے دعویدار مفتی - سرکار کے اعمال کو شریعت وہابیہ کا نقاب چڑھانے والے مولوی حضرات - شریعت وہابیہ کے مطابق انہیں ایسا کرنے کے حوالے سے مجاز سمجھتے ہیں۔ شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مطابق ایک ہی وقت چار سے زائد زوجات رکھنے کی اجازت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے تو ایسی صورت میں ہر نئی شادی کے لئے ایک زوجہ کو طلاق دینا ہوگی تو یہ ساری شرائط مد نظر رکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزامات نہایت مضحکہ خیز ہیں اور ان الزامات سے ان کے بانی یعنی منصور دوانیقی اور اس کے منشیوں اور مستوفیوں کی کم علمی عیاں ہو جاتی ہے۔

3۔ کیا امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی نہی، "نہی عن المنکر" تھی یا "نہی عن الحلال" تھی؟ دونوں صورتوں میں غلط ہے؛ کیوں؟ اس لئے کہ: امیرالمؤمنین اور امام حسن (علیہما السلام) آیت تطہیر کی گواہی کے مطابق معصوم تھے اور ہر قسم کی پلیدی، رجس اور ناپاکی کو ان دونوں سے دور رکھا گیا ہے، جبکہ دوسروں کو پلیدی سے دور رہنا پڑتا ہے، چنانچہ ان میں سے کوئی بھی ایسا فعل کرنہیں سکتا جس سے انہیں نہی کیا جاسکے اور نہی عن الحلال بھی تو بنیادی طور پر غلط ہے اور امام معصوم نہی عن الحلال جیسے فعل قبیح کے مرتکب نہیں ہوسکتے۔

4۔ کیا امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی نہی کسی تمہید یا مقدمے پر مبنی تھی یا پھر مقدمے کے بغیر تھی؟ یعنی یہ کہ کیا آپ نے ابتداء میں اپنے فرزند سے فرمایا ہے کہ ان کے ان افعال سے ناراض ہیں! یا نہیں بلکہ براہ راست معاشرے میں جا کر اپنے بیٹے کی شکایت عوام تک پہنچائی ہے؟ اگر تمہید و مقدمے کے بغیر ہو تو یا عمل تو بنیادی طور پر امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے بعید اور آپ کی سیرت و روش کے منافی ہے اور محال ہے کہ آپ کسی تمہید کے بغیر اپنے فرزند ارجمند - وہ بھی امام حسن (علیہ السلام) جیسے فرزند - کی آبرو نیلام کردیں۔ اور اگر تمہید پر مبنی تھی تو امام حسن (علیہ السلام) سے تو کیا ایک عام سے با ایمان انسان سے بھی بعید ہے کہ وہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) جیسے والد اور امام کو اتنا تنگ کر دے اور اتنا پریشان کر دے کہ وہ مضطرب اور پریشان رہا کریں۔

5۔ میں امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) پر طعن کرنے والے شخص یا اشخاص سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا وہ خود باور سکتے ہیں کہ امام حسن (علیہ السلام) اتنی بڑی شان و منزلت کے باوجود (معاذ اللہ) اپنے والد کے لئے خجلت اور شرمندگی کے اسباب فراہم کرسکتے تھے؟! کیا امام حسن اور امام حسین (علیہما السلام) اور ان کے والد ماجد سے منسوب کسی مبینہ پیر، قلندر، مولوی اور مفتی سے وہ ایسی توقع کرسکتے ہیں کہ وہ امام اور اسلام اور خدا کی اس طرح نافرمانی کر سکے گا اور اس طرح اپنے امام اور اپنے باپ کی نافرمانی کرسکے گا؟؟! کیا اپنے ان ہی عام رشتہ داروں یا بیٹوں اور بھائیوں سے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ علاقے کی قوموں اور قبیلوں میں آپ کے لئے دشمنیاں ابھار دیں؟ اور اگر وہ ایسا کریں تو کیا آپ ان پر دین سے دوری ہی کا نہیں بلکہ عقل سے محرومی تک کا الزام نہیں لگائیں گے؟! کیا ایک صاحب ایمان شخص امام حسن (علیہ السلام) پر ایسا الزام لگا سکتا ہے؟

الف: ابن عساکر کی روایت میں یہ دینی سقم اور نفسیاتی مشکل بخوبی واضح ہے:

ابن عساکر سوید بن غفلہ سے ایک جعلی روایت نقل کرتے ہیں:

امام حسن (علیہ السلام) کی ایک زوجہ قبیلہ خثعم سے تھیں جنہوں نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد امام حسن (علیہ السلام) کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کو خلافت کا عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی؛ چنانچہ امام نے ان سے فرمایا: تم نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی شہادت پر خوشی اور آنجناب پر شماتت کا اظہار کردیا "چنانچہ میں نے تمہیں تین طلاقیں دے دیں!"۔ اس خاتون نے کہا: خدا کی قسم میری بات کا مطلب یہ نہیں تھا؛ بہر حال اسے طلاق ہو چکی تھی اور اسے عدت کے خاتمے پر آپ کے گھر سے خارج ہونا پڑا!!!؟؟

امام (علیہ السلام) نے حق مہر کے ساتھ بیس ہزار درہم ملا کر ان کے لئے روانہ کردیئے تو خاتون نے کہا کہ یہ بہت ناچيز متاع ہے جو جدا ہونے والے دوست سے مجھے مل رہی ہے۔

خاتون کی بات امام (علیہ السلام) تک پہنچتی ہے تو آپ بہت روتے ہیں اور فرماتے ہیں: اگر میں نے اپنے والد اور اپنے نانا سے نہ سنا ہوتا کہ "جب کوئی اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین ‍طلاقیں دے دے تو جب تک اس عورت نے نیا شوہر اختیار نہ کیا ہو پہلے شوہر پر حلال نہیں ہوسکے گی، تو میں اس سے رجوع کرتا۔ (38)

اس من گھڑت افسانے کا جعلی پن:

1۔ امام حسن (علیہ السلام) کو‏ئی بھی تمہید باندھے اور خاتون کے مقصد پر غور کئے بغیر صرف خلافت کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد کہنے کی پاداش میں اس قدر غضب ناک ہوجاتے ہیں کہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں کہ اپنی عزیز زوجہ کو طلاق دے دیتے ہیں جن کے درمیان محبت کا ناطہ ابن عساکر کی روایت سے ظاہر ہے۔ ایک عقلمند انسان سے ـ خواہ وہ معصوم نہ بھی ہو ـ ایسی حرکت کی توقع نہیں رکھی جاتی چہ جائے کہ امام حسن (علیہ السلام) سے ایسی حرکت سرزد ہوجائے۔

2۔ فقہ اہل بیت کے مطابق طلاق کو دو عادل گواہوں کے سامنے ہونا چاہئے جبکہ ابن عساکر کی روایت کے مطابق اس شرط کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے! فقہ اہل بیت بھی امام علی، امام حسن، امام حسین اور دوسرے ائمہ (علیہم السلام) سے آئی ہے اب سوال یہ ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ امام معصوم اپنے ہی احکام اور اپنی ہی فقہ کی خلاف ورزی کر دے؟

3۔ معلوم نہیں کہ یہ طلاق ہوئی بھی ہے یا نہیں؟ امام حسن (علیہ السلام) کی خثعمی زوجہ تھیں بھی یا نہیں تھیں؟ بہرحال اگر امام حسن (علیہ السلام) نے اپنی زوجہ کو اپنے والد اور امام کی شہادت پر خوش ہونے کی پاداش میں طلاق دی تھی تو حق مہر تو دینا چاہئے تھا لیکن یہ بیس ہزار درہم کا اضافہ کس لئے تھا، جبکہ آپ نے ناراضگی اور سخت غصے کی حالت میں اسے طلاق دی تھی؟

اور ہاں! اس روایت میں ابن عساکر کی اموی پرستی کا عنصر بھی تھوڑا تھوڑا عیاں ہؤا ہے اور وہ یوں کہ اس نے امام حسن (علیہ السلام) کو (معاذ اللہ) جلدباز انسان کے طور پر متعارف کرایا ہے جو کسی بھی بات پر آپے سے باہر ہو سکتے ہیں؛ پھر زوجہ کی زبان سے امام حسن (علیہ السلام) کو ابن عساکر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ "خدا کی قسم میرا مطلب یہ نہیں تھا: پھر تین طلاقوں کا الو سیدھا کرنے کے لئے انہیں امام حسن اور اہل بیت (علیہم السلام) سے بھی جوڑ دیا جاتا ہے؛ اور پھر امام حسن (علیہ السلام) پر عدم ثابت قدمی کا الزام دھرتے ہوئے انہیں سابقہ زوجہ کو 20 ہزار درہم بھجواتے ہوئے دکھاتا ہے اور سابقہ زوجہ کی طرف سے پھر بھی امام حسن (علیہ السلام) کو محبت بھرا پیغام بھجواتا ہے جس پر امام حسن (علیہ السلام) اس قدر نادم و پشیمان ہوتے ہيں کہ رونے لگتے ہیں اور یوں ابن عساکر "تین طلاقوں کے ‍قانون" پر مہر تصدیق ثبت کرواتے ہیں اور امام حسن (علیہ السلام) کو امت کے سامنے پیش کرتے ہیں جو اپنی پیاری زوجہ کو تین طلاقوں کے جعلی قانون قربان کر رہے ہیں!

4۔ تین طلاقوں والے قانون کا، جس کے تحت ایک ہی مجلس میں بیوی کو تین طلاقیں دی جاسکتی ہیں، مذہب اہل بیت (علیہم السلام) سے دور دور تک کا بھی نہیں کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں تین طلاقیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے زمانے میں رائج نہیں تھی اور اگر کوئی ایک ہی نشست میں تین طلاقیں دے دیتا تو وہ ایک طلاق سمجھی جاتی تھی اور ابوبکر کے زمانے یہی درست شرعی قانون نافذ رہا جو اہل بیت (علیہم السلام) کے مذہب میں آج تک نافذ ہے اور دوسرے خلیفہ کے دور کے ابتدائی دو برسوں تک بھی نافذ رہا جس کے بعد دوسرے خلیفہ نے شرعی قوانین کی تبدیلیوں کے ضمن میں اس قانون کو بھی بدل دیا اور تین طلاقیں ایک ہی مجلس میں دی جانے لگیں گو کہ مصر میں یہ ‍قانون منسوخ ہوگیا ہے اور شیعہ قانون طلاق رائج ہے جو وہی بنیادی اسلامی قانون ہے۔ (39) چنانچہ ائمہ اہل بیت (علیہم السلام) کو اس نئے قانون کی نسبت دینا مضحکہ خیزی کی انتہا ہے۔

چنانچہ فقہ اہل بیت (علیہم السلام) کے تحت ایک ہی مجلس میں سو بار طلاق بھی ایک ہی طلاق سمجھی جاتی ہے اور مرد طلاق کے بعد عدت کے ایام میں بیوی سے رجوع کرسکتا ہے یا پھر عدت کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے لہذا اگر ابن عساکر کا یہ افسانہ درست بھی مان لیا جائے تو امام حسن (علیہ السلام) کے پاس عدت کے دنوں میں رجوع یا عدت کے بعد نکاح کا امکان موجود تھا جو اگر ہمیں معلوم ہے تو امام کو بطریق اولیٰ معلوم تھا چنانچہ رونے دھونے اور نادم ہونے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

اور ہاں! تین طلاقیں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حکم کے مطابق کچھ یوں ہیں کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور رجوع کرتا ہے، پھر طلاق دے کر رجوع کرتا ہے اور تیسری مرتبہ طلا‍ق دیتا ہے تو اس کے بعد اس سے رجوع نہیں کرسکتا حتّیٰ کہ کوئی اور شخص اس سے شادی کرلے اور اگر اس نے اس کو طلاق دی تو پہلا شوہر اس سے نکاح کرسکے گا اور یہ عمل دو مرتبہ جاری رہ سکتا ہے جس کے بعد وہ عورت اس پر حرام ہوجاتی ہے، اور نویں طلاق "طلاق بَيِّن" ہے جس کے بعد مطلقہ عورت سابق شوہر پر ابدی حرام ہوجاتی ہے۔

ابن عساکرکی روایت کی صورت حال اتنی مضطرب اور غیر مربوط ہے اور اس پر اتنے اعتراضات وارد ہیں کہ اس کی سند کا جائزہ لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

ب۔ اسناد کا جائزہ

1۔ اکثر مؤرخین نے اس تاریخی جھوٹ کو سند و ثبوت ذکر کئے بغیر اس کو "ابوالحسن مدائنى"، "محمد بن عمر واقدى" اور "ابوطالب مكّى" سے نقل کیا ہے؛ یہ تینوں مؤلفین مذہب تشیّع کے پیروکاروں میں شامل نہیں ہیں۔

اس موضوع سے متعلقہ روایات بہرصورت قابل جرح ہیں اور سب پر اشکال وارد ہے؛ کیونکہ:

ابن عساکر لکھتے ہیں: "عن‏ محمدُ بنُ سیرین ۔۔۔" (اور محمد بن سیرین سے منقول ہے کہ...) (40)

میرخواند شافعى لکھتے ہیں: "نقل است كه۔۔۔" (منقول ہے کہ ۔۔۔)؛ (41)

سیوطى کہتے ہیں: "كانَ الحسنُ یتزوَّجُ۔۔۔" (امام حسن (علیہ السلام) شادیاں کرتے تھے۔۔۔)؛ (42)

"ابوطالب مكّى لکھتے ہیں: "إِنّهُ تَزَوَّجَ۔۔۔" (یقینا انھوں نے شادی کی۔۔۔) (43)؛

سبط بن الجوزى نے لکھا ہے: "وَفي روایةٍ أَنّهُ تَزَوَّجَ۔۔۔" (اور ایک روایت میں ہے کہ یقینا انھوں نے شادی کی۔۔۔)؛ (44)

ابوالحسن مدائنى نے لکھا ہے: "كانَ الحَسَنُ كَثیرُالتَّزویجِ۔۔۔" (حسن (علیہ السلام) کثیرالتزویج تھے۔۔۔) (45)

یہ تمام روایتیں مُرسَل (46) ہیں اور ان کا سلسلۂ سند ذکر نہیں ہؤا ہے۔ اور جن لوگوں نے ان تین مؤرخین پر اعتماد کیا ہے ان سے بس یہی کہنا چاہئے کہ: یہ تینوں مؤرخین بھی امام حسن (علیہ السلام) کے زمانے میں موجود نہیں تھے اور پھر ان تینوں نے آج کے بعض قلم فروشوں کی طرح یہ روایتیں سلسلۂ سند ذکر کئے بغیر نقل کی ہیں جس طرح کے ہم نے مدائنى اور مكّى سے نقل کیا چنانچہ ہم یہاں کہتے ہیں کہ اس طرح کے ناقابل اعتماد راویوں کی بے اعتمادی اور ضعف کو دیکھ کر اعلان کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی طرف سے امام حسن (علیہ السلام) کی شادیوں، زوجات کی تعداد، اور تزویج و طلاق وغیرہ کے بارے میں منقولہ ہر قسم کی روایات جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔

2۔ ارباب جرح و تعدیل میں سے بہت سوں نے ان تین راویوں کو کلی طور پر ناقابل اعتماد قرار دیا ہے۔ جن میں سے شمس الدین، الذہبى، (47) ابن حجر العسقلانى، (‏48) ابن الجوزى، (‏49) عماد الحنبلى، (‏50) ابن ابی حاتم الرازى، (‏51) ابن الاثیر الجزرى (عزالدین)، (‏52) خیر الدین الزركلى، (‏53) علامہ عبدالحسین امینى، (‏54)، سید محسن امین العاملی، (‏55) ہاشم معروف الحسنى (56) جیسے شیعہ اور سنی علماء شامل ہیں۔

3۔ ان تین مؤرخین نے ایسے راویوں سے روایت کی ہے - یعنی ایسے استادوں کے شاگرد ہیں - جو یا تو بنو امیہ کے پیروکار تھے یا بالکل مجہول اور ضعیف تھے؛ مثلاً مدائنی عَوانة بن حَکَم الکلبی سے نقل روایت کرتا ہے جبکہ عوانہ معاویہ اور بنی امیہ کی سوانح لکھنے اور ان کے فائدے میں 'وضع حدیث' کا ملزم ہے اور اس کی روایات بہر کیف بنوامیہ کی جانب رجحان رکھتی ہیں۔ (57) اور اس کے بعض مشائخ اور اساتذہ منجملہ جعفر بن ہلال، (‏58) عاصم بن سلیمان الاحول، (‏59) اور ابن عثمان (‏60) ضعیف یا مجہول ہیں۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ واقدی جو روایات مدنیوں سے نقل کرتے ہیں ان میں مجہول رواة کی بھرمار ہے۔ (61)

ہاشم معروف الحسنى لکھتے ہیں: مدائنى، عباسی بادشاہوں کا معاصر تھا اور اس پر دروغ گوئی اور جعل حدیث کا الزام ہے۔

شمس الدین الذہبی نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ مسلم بن حجاج قشیری (صحیح مسلم کے مؤلف) نے اپنی صحیح میں مدائنی سے روایت نقل کرنے سے اجتناب کیا ہے اور ابن عدی نے اس کو ضعیف گردانا ہے اور اصمعی نے اس سے کہا ہے: اللہ کی قسم! اسلام میں سے کچھ بھی تیرے وجود میں باقی نہیں بچا ہے (یعنی تو مکمل طور پر اسلام سے خارج ہو گیا ہے!) ۔۔۔ لسان المیزان کے مصنف (ابن حجر العسقلانی) نے اس کے بارے میں کہا ہے: وہ عبدالرحمٰن بن سمرہ بن حیبب اموی کے غلاموں میں سے تھا اور دوسری طرف سے اس کی بیشتر روایات مرسل ہیں جن کا کوئی سلسلۂ سند موجود نہیں ہے۔

ان سب حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ 70 شادیوں والی روایت جو مدائنی کے سوا کسی نے نقل نہیں کی ہے اس زمانے کی حکمرانوں کی جعلیات میں سے ایک ہے اور اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ وہی جو علویوں اور آل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے دشمن تھے یہ روایتیں وضع کرلیا کرتے تھے اور یہ بات بھی مسلمات تاریخ میں سے ہے۔۔۔ (62)

شیخ محمد بن یعقوب کلینی کی روایت ـ جو روایات کے پہلے زمرے میں ذکر ہوئی ہے ـ کی سند میں حمید بن زیاد اور حسن بن محمد سماعہ دکھائی دیتے ہیں جو واقفی (63) اور ناقابل اعتماد ہیں۔ (64)

علامہ حلّى حمید بن زیاد کے بارے میں کہتے ہیں: "میرے نزدیک اس کی روایت اس وقت قابل قبول ہے کہ اس روایت کی کوئی معارض (متصادم) روایت موجود نہ ہو"۔ (65)

علامہ مجلسی نے اس روایت کو معتبر قرار دیتے ہوئے اس کی یوں توجیہ کی ہے کہ: شاید امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ آپ لوگوں کے ایمان کے مراتب آزمانا چاہتے تھے نہ یہ اللہ کی بارگاہ میں تأئید پانے والے معصوم فرزند کی ملامت کرنا چاہتے تھے۔ (66) لیکن ان کی روایت کے بعض راوی واقفی ہیں؛ لہذا علامہ حلی کے موقف کے مطابق ان کی روایت صرف اسی صورت میں قابل قبول ہے کہ اس سے متصادم روایت وارد نہ ہوئی ہے، چنانچہ یہ روایت حجت نہیں ہے اور پھر امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کی عصمت، عظمت اور مقام و منزلت پر مبنی بے شمار روایات اس روایت سے متصادم ہیں جن کی وجہ سے علامہ حلی کے قاعدے کے مطابق اس روایت کی حجیت خود بخود ختم ہوجاتی ہے۔

روایات کے تیسرے زمرے میں الکافی کی روایت قرار پائی ہے جو ابوالعلاء سے نقل ہوئی ہے اور علامہ مجلسی اس روایت کو مجہول سمجھتے ہیں۔ (67)

روایات کے پہلے زمرے میں احمد بن ابی عبداللہ (أحمد بن محمد بن خالد البرقی صاحب المحاسن) کی روایت آتی ہے جو انھوں نے اپنی کتاب "المحاسن" میں نقل کی ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ احمد بن ابى‏عبداللہ خود قابل توثیق و تأئید ہیں لیکن ان کی روایات قابل اعتماد نہیں ہیں کیونکہ انھوں نے اکثر روایات ضعیف راویوں سے نقل کی ہیں۔ (68)

اپنی بات: 

حدیث و روایت سے استناد، بہت حساس مسئلہ ہے جو ہر آدمی کا کام نہیں ہے اور اس کے لئے علم حدیث اور علم رجال کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور اگر انسان جرح و تعدیل کے قواعد سے واقف نہ ہو تو اس کی حدیث سے حکم اخذ کرنے اور اس سے استنباط و اجتہاد کرنے میں احتّیٰاط برتنا ضروری ہے۔ اسی طرح مراجع تقلید کے فتاویٰ بھی ہیں جن کو جذبات و احساسات کے ترازو میں پرکھنے سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ مراجع قرآن و حدیث سے حکم کا استنباط کرتے اور شریعت کے احکام اخذ کرتے ہیں جن کا جذبات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم بھی صرف اس لئے مسلمان ہیں کہ شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے تابع ہیں اور جذبات کی متابعت سے مسلمانی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی؛ جس طرح کہ احادیث کو بھی اپنے جذبات کی ترجمانی کے لئے پیش کرنے سے لوگوں کی گمراہی کے اسباب فراہم ہوتے ہیں۔ بطور مثال جب ڈاکٹر ہمیں نسخہ دیتا ہے تو ہم چوں و چرا کئے بغیر اس پر عمل کرتے ہیں؛ چنانچہ، پھر دین کے سلسلے میں ہم مراجع کی بات اور اہل بیت (علیہم السلام) کی احادیث میں مداخلت کیوں کرتے ہیں؟ کیا ہمیں یہ حق حاصل ہے؟ ہم جب جسمانی صحت کے حوالے سے ڈاکٹر پر اعتماد کرتے ہيں تو اپنے دین کے سلسلے میں حدیث و قرآن کے متخصصین پر اعتماد کرنے کیوں سرتابی کرتے ہیں؟ کیا دین کی سلامتی کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہر شخص علم و دانش کے بغیر، دین کی تشریح سے پرہیز کرے؟

اس شبہے کا بانی کون ہے؟‏

موجودہ دلائل اور شواہد سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ عباسی بادشاہ منصور دوانیقی کے دور میں حَسَنیِ سادات کی عباسی مخالف تحریک شروع ہونے سے پہلے کسی بھی کتاب میں یہ روایت نقل نہیں ہوئی ہیں اور منصور عباسی ہی تھا جس کے مقرر کردہ گماشتوں نے علویوں کی تحریک اور امام حسن بن علی (علیہما السلام) کے پوتوں کے حکومت مخالف اقدامات کو بے اثر کرنے کے لئے - ابلیس کی مدد سے - یہ تہمت گڑھ لی اور فرزند رسول امام حسن مجتبیٰ (علیہما السلام) کے خلاف اس شبہے کی بنیاد رکھی جو آج تک اہل بیت (علیہم السلام) کے دشمنوں کے ہاتھوں میں دستاویز بنی ہوئی ہے اور وہ محض آل رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی دشمنی کی بنا پر، آج تک دیئے گئے جوابات کو نظر انداز کرتے ہوئے، اسے اچھال رہے ہیں۔

منصور علویوں اور حسنیوں کی تحریک سے سخت خوفزدہ تھا اور اس کے پاس اپنی تشویش کے خاتمے کے لئے اس سے زیادہ بہتر حربہ نہیں تھا کہ امام حسن (علیہ السلام) کا پاک اور معصوم چہرہ اپنی ناصبیت کا نشانہ بنا دے اور آپ کی کردار کشی کا سہارا لے۔ منصور نے عباسی ظلم و جبر کے خلاف قیام کرنے والے عبداللہ بن حسن کو گرفتار کرنے کے بعد لوگوں سے خطاب کیا اور اپنی ناصبیت کا ثبوت دیتے ہوئے علی ابن ابی طالب اور امام حسن (علیہما السلام) سمیت ابوطالب (علیہ السلام) کے تمام فرزندوں کے خلاف دشنام طرازی کی اور گستاخی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا:

"اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے کہ ہم نے ابوطالب کے فرزندوں کے خلافت میں تنہا چھوڑا اور ہم نے ان سے کوئی سروکار نہیں رکھا؛ ابتداء میں علی ابن ابیطالب نے خلافت کی اور ان کے بعد حسن بن علی اٹھے ۔۔۔۔ (منصور نے یہاں جھوٹ کا سہارا لے کر کہا) اور معاویہ نے مکاری کرکے ان کو ولی عہدی کا وعدہ دیا اور معاویہ نے سفید و سیاہ پر قبضہ کیا اور انہیں بے دخل کردیا۔ حسن بن علی نے بھی تمام امور معاویہ کے سپرد کئے اور (معاذ اللہ) حسن بن علی نے عورتوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کردی۔ (69) اور وہ آج ایک سے شادی کرتے اور دوسرے روز طلاق دیدیتے اور اسی کام میں مصروف تھے کہ اپنے بستر میں دنیا سے اٹھ گئے۔۔۔" (70)  

استاد ہاشم معروف الحسنی اس بے بنیاد اور نامردی پر مبنی تہمت کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ستر اور نوے اور ان سے کم یا زیادہ شادیوں سے متعلق روایات اور آپ پر (معاذاللہ) زن پرستی کا الزام لگانے والی روایات نیز امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی جانب سے امام حسن (علیہ السلام) کی ملامت پر مبنی روایات کی اسناد سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا منبع و ثبوت صرف وہ روایات ہیں جو مدائنی اور اس جیسے جھوٹوں سے نقل ہوئی ہیں۔

مدائنی، واقدی اور ان جیسے دیگر مؤرخین نے تاریخ کی کتابت کا کام ایسے جابر و ظالم حکمرانوں کے سائے میں سرانجام دیا ہے جو اہل بیت (علیہم السلام) کے دشمن تھے، اور اہل بیت (علیہم السلام) کے حقائق کو متنازعہ بنانے اور انہیں نقصان پہنچانے کے سلسلے میں کسی بھی کوشش و سازش سے فروگذاشت نہیں کرتے تھے۔ جابر عباسی حکمران بھی تعصب اور نیت کی پلیدی کے حوالے سے اپنے اموی اسلاف سے کسی طور بھی کم نہ تھے۔ عباسی بھی علویوں کے خلاف جعلِ حدیث کے حوالے سے امویوں کے ہم دست تھے (اور عباسیوں نے اہل بیت (علیہم السلام) کے خلاف جعلی روایات و احادیث بنانے کا اموی سلسلہ جاری رکھا) عباسی، حسنی سادات کے خلاف خاص قسم کا کینہ رکھتے تھے کیونکہ جن علویوں نے عباسی ستم کے خلاف جہاد کیا ان میں حسنی سادات سر فہرست تھے۔ (71)

حقیقت کیا ہے؟

اب تک ہم نے امام حسن (علیہ السلام) کی شادیوں اور طلاقوں کی کثرت سے متعلق تہمتوں کا جواب دیا اور ثات کیا کہ یہ بہتان امام حسن (علیہ السلام) کے زمانے اور امویوں کی طویل بادشاہت کے زمانے میں کہیں بھی بیان نہیں ہؤا ہے اور عباسیوں کے دور میں منصور نے اس کی بنیاد رکھی ہے۔

حقیقت یہ ہے امام حسن (علیہ السلام) کی ازواج کی تعداد آٹھ یا دس (72) سے زیادہ نہ تھی جن میں اکثریت کنیزوں کی تھی اور اس زمانے میں یہ ایک معمول کی بات تھی اور ہر آدمی کی بیویاں بھی ہوتی تھیں اور کنیزیں بھی، جن کی تعداد کئی اشخاص کے ہاں اس تعداد سے کہیں زیادہ ہوتی تھی لیکن کسی نے کسی پر اس حوالے سے کوئی اعتراض نہیں کیا ہے اب کیا واقعہ رونما ہؤا کہ زمانے کے معمول کے مطابق شادی کرنا اور کنیزیں رکھنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی آنکھوں کے تارے امام حسن (علیہ السلام) کے لئے عیب قرار پایا اور انہیں اس بے شرمانہ یلغار کا نشانہ بنایا گیا؟ کیا شادیوں کی اتنی تعداد روایت کے جعلی پن کی علامت نہیں ہے؟ اور پھر ہم نے ابتداء میں ہی ذکر کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور آل رسول اللہ (صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین) کے گھوڑوں، خچروں، گدھوں، اونٹوں، تلواروں، دستاروں اور جوتوں تک کے نام ذکر کرنے والے مؤرخین نے آپ کی بیویوں کے نام اور ان کے خاندانوں کے نام نقل کیوں ذکر نہيں کئے ہیں؟ کیا یہ بات ان روایات کے جعلی پن کا ثبوت نہيں ہے؟

ابوطالب مكّى نے امام حسن (علیہ السلام) کی زوجات کی تعداد دو سو پچاس بتائی ہے ہم پوچھتے ہیں کہ اس نے ان زوجات میں سے چند ہی زوجات کا نام پتہ کیوں نہیں بتایا؟ اور ہاں! واقدی اور ابوالحسن مدائنی کی راہ پر گامزن مؤرخین امام کے لئے اتنی ساری شادیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام (علیہ السلام) کے فرزندوں کی تعداد 22 یا 31 سے زیادہ کیوں نہیں بتا سکے ہیں؟ (73)

ہم ابوطالب مکی سے پوچھتے ہیں کہ اگر امام (علیہ السلام) کی زوجات کی تعداد چارسو سے زیادہ تھی تو آپ کے فرزندوں کی تعداد اکتیس سے زيادہ کیوں نہیں ہے؟ کیا ان زوجات میں سے اکثریت بانجھ خواتین کی تھی؟ یا پھر یہ روایت ایک بہتان اور ایک ناروا تہمت ہے؟

اپنی بات:

وہ جواب جو معترضین کے کے لئے زیادہ قابل قبول ہے

ہم نے یہاں علمی اور تحقیقی جواب دے دیا جو عام طور پر اہل بیت (علیہم السلام) کے دشمن کم ہی پڑھتے ہیں لہذا ہم ان کے اپنی منطق سے استفادہ کرتے ہوئے ان ہی کی منطق میں بھی جواب دیتے ہیں اور وہ یوں کہ:

ہم کہتے ہیں کہ خالد بن ولید نے صحابی "مالک بن نویرہ کو قتل کیا اور اسی رات ان کی زوجہ سے ہم بستری کی" تو یہ حضرات کہتے ہیں کہ صحابی مجتہد ہے اور اس نے اجتہاد کرکے ایسا کیا اور اجتہاد میں خطا کرنے والا پھر بھی ایک ثواب کماتا ہے!

ہم کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ نے زبیر اور طلحہ کے ساتھ مل کر خلیفہ وقت کے خلاف بغاوت کی اور جمل کا فتنہ برپا کرکے سولہ ہزار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، کہتے ہیں کہ انھوں نے اجتہاد کیا اور اگر غلطی بھی ہوئی تو ایک ثواب پھر بھی انہیں ملا ہے!

ہم کہتے ہیں کہ غدیر خم میں اللہ کے حکم پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو جانشین کے طور پر مقرر فرمایا اور اجتہاد بھی نصّ کے مقابلے میں بے کار ہے پھر بعض لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا جنازہ چھوڑ کر سقیفہ میں "نجات امت" کا جرگہ بپا کیا اور خلیفہ کے ہوتے ہوئے انھوں نے خلیفہ کا تعین کیا تو کہتے ہیں کہ اصحاب کو ہر صورت میں اجتہاد کا حق حاصل ہے اور اگر خطا ہوئی بھی ہو پھر بھی اہل سقیفہ نے ایک ثواب کما لیا ہے!

ہم کہتے ہیں کہ معاویہ نے خلیفہ مسلمین کے خلاف بغاوت کی اور صفین میں عمار یاسر اور اویس قرنی اور چھیاسٹھ دیگر صحابہ سمیت ہزاروں مسلمانوں کا خون کیا تو کہتے ہیں کہ معاویہ مجتہد تھا اور اس کا یہ عمل کم از کم اس کے لئے ایک ثواب کما لایا ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ بہت خوب اب ہماری اس بات کی طرف توجہ دیں کہ اگر ہم مان بھی لیں کہ امام حسن (علیہ السلام) نے تمہارے بقول اتنی ساری شادیاں کی ہیں تو کیا ان کا علم اور حقّ اجتہاد آپ کے محبوب صحابیوں سے بھی کم ہے جنہوں نے اسلام اور مملکت اسلام کی بنیادیں ہلا دیں اور مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کی اور یہ حضرات کہتے ہیں کہ انھوں نے اجتہاد کیا لیکن امام حسن (علیہ السلام) کو شادیوں اور طلاقوں کے بارے میں اجتہاد کا حق نہیں دیتے! اور اس عمل کو عصمت امام کا ناقض سمجھتے ہیں؟ چنانچہ اگر جھوٹوں کے جھوٹے دعوے صحیح ہیں تو ہم ان ہی کی منطق کے مطابق کہتے ہیں کہ آپ نے بھی اجتہاد کیا اور نہ صرف آپ کی شخصیت میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ ان ہی کے قاعدے کے مطابق - اگر یہ عمل صحیح نہیں بھی تھا تو - آپ نے پھر بھی کم از کم ایک ثواب کمایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

1۔ الکلینی، محمد بن یعقوب، الكافى، ج 6، ص 56۔

2۔ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ط بیروت، ص72۔

3۔ منتظرالقائم، نقش قبیلۂ ہمدان در تاریخ اسلام و تشیع (تاریخ اسلام و تشیع میں قبیلۂ ہمدان کا کردار)، مطبوعہ 1385 ہجری شمسی، ص19-20۔

4۔ یعنی جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے اس کو معتمد اور ہوشیار و دانا اور امور کے انجام سے واقف ہونا چاہئے۔

5۔ البرقی، أحمد بن محمد بن خالد، المحاسن، ج2، ص 601؛ خراسانی، محمد ہاشم بن محمد علی، منتخب التواریخ، طبع چہارم، مطبوعہ 1388ہجری شمسی، ص190۔

6۔ الکلینی، الكافى، ج 6، ص 56؛ بحارالانوار، ج 44، ص 172۔

7۔ البلاذری، احمد بن یحییٰ، انساب الاشراف، ج3، ص25۔

8۔ جلال الدین السیوطی، عبدالرحمن بن ابی بکر، تاریخ الخلفاء، ص191۔

9۔ وَكَانَ عَلِيٌ (عَليهِ السلام) يَضْجَرُ مِن ذلِكَ فَكَانَ یَقُولُ فِي خُطبَتِهِ إنَّ الحَسَنَ مِطلاقٌ فلا تُنكِحِوهُ؛ علی (علیہ السلام) اس مسئلے سے خفا ہوتے تھے، اور خطبے میں فرمایا کرتے تھے کہ حسن (علیہ السلام) زیادہ طلاق دینے والے ہیں، تو تم اپنی بہنوں بیٹیوں کو ان کے نکاح میں مت دیا کرو۔ (علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج44، ص169۔) اس قسم کی روایات سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ (معاذ اللہ) امام حسن (علیہ السلام) اپنے والد کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے؛ ان روایات میں کردار کشی کی تہہیں اور سازش بنانے والے اشخاص کی عیاریاں بخوبی عیاں ہیں۔

10۔ وہی ماخذ۔

11۔ وہی ماخذ، ج44، ص173۔

12۔ وہی ماخذ

13۔ ابن حجر الہیتمی، احمد بن بدرالدین محمد ہیتمی، الصواعق المحرقۃ، ص139۔

14۔ الکلینی، الكافى، ج6، ص56۔

15۔ ابن مطہر مقدسی، ابو زید احمد بن سہل بلخی، البدء و التاریخ، ج5، ص74۔

16۔ ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابى‏طالب، ج 4، ص 30۔

17۔ وہی منبع۔

18۔ ابن شہر آشوب، وہی ماخذ؛ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج44، ص158 بحوالہ ابوطالب مکی، محمد بن علی بن عطیہ حارثی مکی "قوت القلوب"۔

19۔ ابن حجر الہیتمی، الصواعق المحرقہ، ص114۔

20۔ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج6، ص58۔

21۔ التستري، القاضي السید نور الله الحسيني المرعشي "الشہيد"، احقاق الحق وازهاق الباطل، ج9، ص266، بحوالہ المعجم الکبیر للطبرانی، ص135، طبع طهران؛ ابن المغازلی، علی بن محمد الجُلّابی الشافعی الواسطی، مناقب على بن ابى طالب، صص 150-148 و 102-101، روایت 144‏۔

22۔ ابن حجر الہیتمی، الصواعق المحرقہ، ص114۔

23۔ الشیبانی، احمد بن حنبل، المسند، ج3، ص441، ح 9679؛ حاکم النیسابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص182، ح4777؛ الکلبی المزی، یوسف بن عبد الرحمن، تہذیب الکمال، ج6، ص228؛ ابن حجر العسقلانی، احمد بن‌ علی‌،‌ الإصابہ فی تمییز الصحابہ، ج2، ص62۔

24۔ الطبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الکبیر، ج3، ص50؛ ابو نعیم اصفہانی، عبداللہ بن احمد شافعی اشعری، ذکرُ اخبارِ اصبہان، ص56؛ ابن عساکر، علی بن حسن دمشقی، تاریخ مدینۃ دمشق، ج14، ص156؛ صالحی شامی، محمد بن یوسف، سبل الہدی والرّشاد، ج11، ص57؛ متّقی الہندی، علی بن حسام‌الدین بن قاضی خان قادری شاذلی، کنز العمّال، ج12، ص120–121۔

25۔ الاربلی، علی بن عیسیٰ، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ (علیہم السلام)، ج2، ص129، الحلی، حسن بن سليمان، المحتضر في إثبات حضور النبي و الأئمۃ (علیہم السلام) عند المحتضر، ص100؛ فرات بن إبراہیم الکوفی، تفسير قرآن، المعروف بہ تفسير فرات، ص171؛ المستدرك: 3/ 161، محب الدین الطبری، احمد بن عبدالله بن محمد، ذخائر العقبىٰ، ص48؛ شیخ مفید، محمد بن محمد المعروف بہ ابن المعلم، المجالس، ص84؛ علامہ مجلسی، البحار، ج43، ص224؛ الشبراوی الشافعی، عبد اللہ بن محمد بن عامر بن شرف الدین، الإتحاف بحب الأشراف، ص256۔

26۔ الترمذي، محمد بن عیسی، سنن الترمذی، ج6، ص90۔

27۔ الشیخ الصدوق، محمد بن علی بن بابویہ القمی، عیون اخبار الرضا (علیہ السلام)، ج2، ص66۔

28۔ ابن أبی الحدید المعتزلی، عبدالحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغہ، ج20، ص326۔ سید بن طاؤس کی روایت میں امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: " أَنزَلَنِيَ الدَّهرُ حَتَّىٰ قِيلَ مُعَاوِيَةُ وَعَلِيٌ؛ : زمانے [کے لوگوں] نے میرا رتبہ گرایا حتّیٰ کہ کہا جانے لگا "علی اور معاویہ!"۔ (سید بن طاؤس الحلی، عبدالکریم بن احمد بن موسی الحسنی، فرحۃ الغری في تعيين قبر أمیر المؤمنین علی (علیہ السلام)، ص7۔)

29۔ بحوالہ آیت 29، سورہ تکویر: "وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ"۔

30۔ سورہ احزاب،آیت٣٣۔

31۔ سورہ الشورى آیت 23۔

32۔ سورہ آل عمران آیت61۔

33۔ ابن کثیر دمشقی، إسماعیل بن عمر، البدایۃ والنہایۃ، ج7، ص37۔

34۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابى‏طالب، ج 3، ص 401۔

35۔ ابن کثیر دمشقی، البدایۃ والنہایۃ، ج7، ص37۔

36۔ مصطفوى تبریزى، علاّمہ حسن بن رحیم، إمام الحسن المجتبى علیہ السلام فی مواجہۃ قریش والعصبیۃ والفتنۃ، ص10۔

37۔ وہی منبع، ص 86۔

38۔ ابن عساکر، علی بن حسن بن ہبۃ اللہ، تاریخ مدینۃ دمشق ج13 (الحسن بن علي بن أبي طالب)، ص249۔

39۔ الشوکانی الیمنی، محمد بن علي بن محمد، نیل الاوطار، ج 6، ص 230؛ الشیخ الصدوق، محمد بن علی بن بابویه قمی، من لایحضرہ الفقیہ، ج 3، ص 320۔

40۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق ج13، ص249۔

41۔ میرخواند، محمد بن خاوندشاہ، روضۃ الصفا فی سیرۃ الانبیاء و الملوک و الخلفا، ج3، ص20۔

42۔ جلال الدین السیوطی، عبدالرحمٰن بن ابی بكر، تاریخ الخلفاء، ص191۔

43۔ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج44، ص169۔

44۔ سبط ابن جوزی، یوسف بن قزاوغلی، تذكرۃ الخواص، ص121۔

45۔ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج44، ص173۔

46۔ حدیث مُرسَل: علم الدرایۃ کی اصطلاح ہے اور اس حدیث کو حدیث مرسل کہا جاتا ہے جسے راوی نے معصوم سے نہیں سنا ہے بلکہ بالواسطہ طور پر حدیث نقل کر رہا ہو، لیکن واسطے کو بھول گیا ہو اور اپنی فراموشی کا اظہار بھی کیا ہو؛ یا نہیں بلکہ ارادی یا غیر ارادی طور پر اس کا تذکرہ اس کا ذکر نہ کیا ہو یا واسطے کو ابہام کے ساتھ ذکر کیا ہو، جیسے "عن رَجُلٍ" یا "عن بعضِ أصحابِنا" وغیرہ۔ حذف شدہ واسطہ ایک ہو یا یہ واسطے ایک سے زیادہ ہوں۔ العاملی، حسین بن عبدالصمد، وصول الأخیار، ص106؛ صدر، سید حسن بن سید ہادی (المعروف بہ محدث کاظمینی)، نہایۃ الدرایہ، ص189)۔

47۔ شمس الدین الذہبی، محمد بن أحمد بن عثمان، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، میزان الاعتدال، ج3، ص107۔

48۔ ابن حجر العسقلانی، أحمد بن علی بن محمد بن أحمد، لسان المیزان، ج 4، ص 386۔

49۔ ابن الجوزى، عبد الرحمن بن علي بن محمد، المنتظم فی تاریخ الأُمَمِ والملوک، ج7، ص189۔

50۔ ابن العماد الحنبلی، عبدالحی بن احمد العکری الصالحی، شذرات الذہب في أخبار من ذہب، ج3، ص120۔

51۔ ابن أبي حاتم الرازي، عبد الرحمن بن محمد بن إدريس، الجرح والتعدیل، ج 4، ص 21۔

52۔ ابن اثیر الجزری، علی بن محمد الجزری الشیبانی المعروف بہ عزالدین بن اثیر، الكامل فى التاریخ، ج9، ص44۔

53۔ الزِرِکلی الدمشقی، خیر الدین بن محمود، الأعلام قاموس تراجم، ج7، ص160۔

54۔ امینی، عبدالحسین بن احمد، الغدیر، ج5، ص290۔

55۔ امین العاملی، سید محمد الباقر محسن ابن عبد الکریم، اعیان الشیعہ، ج46، ص172۔

56۔ الحسنی، ہاشم معروف (سید ہاشم بن سید معروف)، سیرۃ الائمۃ الإثنىٰ عشر، ج1، ص620۔

57۔ ابن حجر العسقلانی، لسان المیزان، ج 4، ص 386۔

58۔ شمس الدین الذہبی، میزان الاعتدال، ج 1، ص 430۔

59۔ وہی منبع، ج4، ص350۔

60۔ وہی منبع، ج6، ص198۔

61۔ تذكرة الحفاظ، ج1، ص348۔

62۔ الحسنی، ہاشم معروف، زندگى دوازده امام، ج1، ص604۔

63۔ واقفی لوگ وہ تھے جو امام کاظم (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد توقف کا شکار ہوئے اور امام رضا (علیہ السلام) کی امامت کے منکر ہوئے۔

64۔ اردبیلی، محمد بن علی، جامِعُ الرّواۃ واِزاحَۃُ الإشْتباہات عَنِ الطّرُقِ والاِسْناد (المعروف بہ جامع الرواۃ)، ج1، ص225 و 284۔

65۔ علامہ حلی، الحسن بن یوسف بن المطہر، خلاصۃ الأقوال فی معرفۃ الرجال، (قم - 1417ھ)، ص129۔

66۔ علامہ مجلسی، مرآۃ العقول فی شرح اخبار آل الرسول عليہم السلام، ج21، ص96۔

67۔ وہی منبع۔

68۔ علامہ حلی، خلاصۃ الأقوال فی معرفۃ الرجال، ص63.

69۔ یہاں ناصبی منصور عباسی نے ایک فنی غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور وہ یوں کے اس کے دسترخوان پر پلنے والے راویوں نے امام حسن (علیہ السلام) پر الزام لگایا ہے کہ آپ کوفہ میں اپنے والد امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی حکومت کے زمانے میں شادیوں اور طلاقوں کے چکر میں پڑ گئے تھے لیکن منصور نے اپنے ہی منشیوں کی بات رد کرتے ہوئے کہا کہ "جب معاویہ نے اقتدار پر مکاری سے قبضہ کیا تو امام (علیہ السلام) نے عورتوں کو توجہ دینا شروع کردی اور اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی حکومت میں آپ کی شادیوں کی روایات یکسر بے بنیاد اور مجعول ہیں، اور یہ کہ جھوٹے ہمیشہ بھلکڑ ہوتے ہيں"۔

70۔ الحسنی، ہاشم معروف، سیرۃ الأئمة الإثنىٰ عشر، ج1، ص618۔

71۔ الحسنی، ہاشم معروف، زندگى دوازده امام، ج 1، ص 602۔

72۔ شرف الدین العاملی، السید عبدالحسین الموسوی بن سید یوسف، صلح الحسن (علیہ السلام)، ص25۔

73۔ ابن مطہر مقدسی بلخی، البدء والتاریخ، ج5، ص74؛ ابن صباغ المالکی، علی بن محمد بن احمد غزی، الفصول المہمۃ فی اصول الائمۃ، ص166؛ مجلسی، علامہ محمد باقر بن محمد تقی، بحارالانوار، ج44، ص168؛ الاربلی، علی بن عیسیٰ، كشف الغمۃ، ج 2، ص 152؛ الطبرسی، الفضل بن الحسن، إعلام الوَرىٰ بأعلام الہُدىٰ، ص213؛ لسان الملک سپہر، محمد تقی بن ملا محمدعلی کاشانی، ناسخ التواریخ، ج5، ص270؛ سبط ابن جوزی، تَذکِرَۃُ الخَواصّ مِنَ الأمۃ فی ذِکرِ خَصائص الأئمۃ، ص212؛ شبلنجی، مؤمن بن حسن، نور الابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار، ص 136؛ محب الدین الطبری، احمد بن عبدالله بن محمد، ذخائر العقبىٰ، ص143؛ الیعقوبی، ابن واضح احمد بن اسحاق بن جعفر، تاریخ یعقوبی، ج2، ص228۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مقالے میں محمدجواد طبسی کے مقالے "امام حسن مجتبی (علیه السلام) و افسانه طلاق" نے مرکزی کردار ادا کیا ہے، گوکہ اردو متن اس سے دو گنا بڑا ہے۔

یہ مقالہ کئی سال قبل فارسی فارمیٹ میں ٹائپ ہو کر ur.abna24.com میں شائع ہؤا تھا، جس کے بعد یہ مختلف ویب گاہوں میں بھی ابنا کے حوالے سے شائع ہؤا، اور اب اسے نظر ثانی کے بعد دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔

تالیف و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110